SAD NEWS An Ahmadi Hameed Ahmad shot him in Attock, Punjab. - Ahmadiyya Media Library

Breaking

Home Top Ad

Saturday, 4 June 2016

SAD NEWS An Ahmadi Hameed Ahmad shot him in Attock, Punjab.

A 64 year old Ahmadi Hameed Ahmad embraced Shahadat. He was shot in the head outside his house in Attock, Punjab.
انالِلہ واناالیہ راجعون
Hameed Ahmad Sahab was coming home & upon reaching as he rang his doorbell someone shot him from close range. He died on the spot.
Hameed Ahmad Sahab has left behind 2 sons & 3 daughters. His wife died few years ago.
Please remember them in your special prayers.

انا للہ و انا الیہ راجعون 
میرے بہت ہی عزیز گو کے انصار اللہ مین تھے مگر جوانوں کے جواں بہت ہی پیارے انکل 
Hamid Ahmad اٹک میں سر میں گولی لگنے کی وجہ سے راہ خدا میں شہادت پا گئے ۔ 
انا للہ وانا الیہ راجعون 
کبھی سوچا تھا کہ آپ کے نام کو ان الفاط میں منشن کرنا پڑے گا ۔ 
بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جان فدا کر
میرا دل گو خون کے آنسو رو رہا ہے مجھے ان کی رفاقتیں یاد آرہی ہیں مین کیا کروں خدا مجھے بھی صبر دے گویا کہ اپنے بیؔٹے جیسا ہی پیار دیا اپنے گھر کا فرد ہی سمجھا رشتہ ان سے صرف احمدیت کا تھا ۔
ان سے کئی بار ملنے کا موقع ملا کئی بار ان کے ساتھ سیٹنگ ہوئی ہر بار ان کے چہرہ پر ایک اپنائیت اور محبت کی مسکراہٹ کو دیکھا ۔
اے اللہ جانے والے کو بے انتہاء رحمتوں سے نواز اور اپنے پیچھے چھوڑ جانے والی روحوں کو صبر عظیم عطا فرما ۔ اے خدا یقین تو ہی صبر عطا کرنے والا ہے ۔
دل کرتا ہے لکھوں اور لکھتا جاؤں ان کے اوصاف حمیدہ نام کی طرح اوصاف بھی حمید تھے ۔
اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آپ کے غم کا اندازہ صرف خدا کی ذات ہی کر سکتی ہے ۔ مگر یقینا خدا نے ایک عظمت سے میرے انکل کو آپ کے ابو کو نواز دیا ہے غم نہ کرنا اللہ پہلے سے بڑھ کر آپ کے ہمراہ ہوگا ۔انشاء اللہ
ٍ```````¬¬¬¬¬``¬¬¬````````
احباب بھی شہید مرحوم کی فیملی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
یہ دُعا ہی کا تھا معجزہ کہ عصا ، ساحروں کے مقابل بنا اَژدھا
آج بھی دیکھنا مرد حق کی دعا ، سحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی
خوں شہیدانِ اُمت کا اے کم نظر! رائیگاں کب گیا تھا کہ اَب جائے گا
ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے ، پھول پھل لائے گی ، پھول پھل جائے گی
ہے ترے پاس کیا گالیوں کے سوا ، ساتھ میرے ہے تائید ربّ الورٰی
کل چلی تھی جو لیکھو پہ تیغ دعا ، آج بھی ، اِذن ہو گا تو چل جائے گی
دیر اگر ہو تو اندھیر ہرگز نہیں ، قول اُمْلِیْ لَھُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْن
سنت اللہ ہے، لاجرم بالیقیں ، بات ایسی نہیں جو بدل جائے گی
یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا ، پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا
تیری آواز اے دشمن بد نوا ! دو قدم دور دو تین پل جائے گی
عصر بیمار کا ہے مرض لا دوا ، کوئی چارہ نہیں اب دُعا کے سوا
اے غلام مسیح الزماں ہاتھ اٹھا ، موت بھی آگئی ہو تو ٹل جائے گی
(جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۸۳ء)













No comments:

Post a Comment