’یہ سکیم احمدی برادری کے لیے نہیں ہے‘ - Ahmadiyya Media Library

Breaking

Home Top Ad

Wednesday, 16 March 2016

’یہ سکیم احمدی برادری کے لیے نہیں ہے‘






سنہ 2010 میں احمدی برادری کی لاہور میں عبادت گاہ پر بم حملے میں قریباً سو افراد مارے گئے تھے
حال ہی میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے ضلع چنیوٹ کے شہر چناب نگر میں کم آمدنی والے افراد کے لیے ایک رہائشی سکیم کے لیے نیلامِ عام کا اشتہار مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس اشتہار کے خصوصی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سکیم کے لیے اہل نہیں ہیں۔
صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں چناب نگر وہ شہر ہے جہاں احمدی برادری کا صدر دفتر ہے اور اس برادری کے ہزاروں افراد بستے ہیں۔
شہر میں 53 ایکڑ رقبہ زمین ہے جہاں کم آمدنی والے افراد کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک رہائشی سکیم رکھی ہے۔
جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جس زمین پر یہ سکیم چلائی جا رہی ہے، ان کی جماعت نے سنہ 1948 میں خریدی تھی اور ان کے پاس دستاویزات موجود ہیں۔ ’حکومت نے یہ زمین غیر قانونی طور پر حاصل کی ہے۔‘
یہ اشتہار پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی جھنگ کی جانب سے شائع کیاگیا ہے۔ ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس زمین کی نیلامی کی جارہی ہے اس میں صرف 29 ایکڑ جماعتِ احمدیہ کے نام ہے اور نیلامی صرف حکومت کی زمین کی ہے۔
Image captionاحمدی برادری کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے ان کے افراد کو تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے
محمد سعید کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے سنہ 1976 میں ایک پالیسی جاری کی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ کالونی صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔‘
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اس سکیم میں حصہ لے سکتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’نہیں، یہ شرط صرف احمدیوں کے لیے ہے۔‘
محمد سیعد نے تسلیم کیا کہ ایسا حکم آئین کے مخالف ہے لیکن یہ زمین پر جھگڑے کی وجہ سے جاری ہوا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب صوبائی حکومت پالیسی تبدیل کرنے کی ہدایت دے گی تو پھر پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی احمدی برادری کو زمین حاصل کرنے کی اجازت بھی دے گی۔
Image copyrightAP
Image captionاحمدی برادری کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کے آئین، ریاست اور غیر ریاستی تنطیموں کی جانب سے تفریق اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے
ادھر جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا تھا کہ حکومت مذہب کے بنیاد پر کسی کو سرکاری زمین خریدنے سے روک تو نہیں سکتی، جو حکومت آئین کے خلاف جائے گی تو اس سے کیا امید رکھی جائے۔
خیال رہے کہ احمدی برادری کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کے آئین، ریاست اور غیر ریاستی تنطیموں کی جانب سے تفریق اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔
کئی برسوں سے احمدی افراد کو تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سنہ 2010 میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر بم حملے میں تقریباً سو کے قریب افراد مارے گئے تھے۔

No comments:

Post a Comment