چکوال میں احمدیوں کو جان کا خطرہ - Ahmadiyya Media Library

Breaking

Home Top Ad

Tuesday, 9 June 2015

چکوال میں احمدیوں کو جان کا خطرہ





میناروں کے انہدام سے قبل احمدیوں کی عبادتگاہ کا ایک منظر۔ —. فوٹو ڈان
میناروں کے انہدام سے قبل احمدیوں کی عبادتگاہ کا ایک منظر۔ —. فوٹو ڈان
چکوال: پچ نند کے اس ویران سے گاؤں میں پہلی مرتبہ آنے والاکوئی بھی فرد یہاں کی خاموشی کو ضرور محسوس کرے گا۔
یہ گاؤں ضلعی مرکز تلہ گنگ تحصیل سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کے 24 ہزار رہائشیوں میں سے زیادہ تر زراعت اور مویشی پال کر اپنی روزی کماتے ہیں۔
اس گاؤں کی ویران سڑکوں پر چلتے ہوئے یہاں کی خاموشی کے پس پردہ کیا ہے، یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔
البتہ چکوال سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر تلہ گنگ تحصیل میں مذہبی کشیدگی کا ابال انتہاءپسندی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔
اس علاقے میں توہین کے نئے مقدمات درج ہونا معمول کی بات ہے، جس میں سے زیادہ تر میں محمد سعید نامی شخص مدعی ہے، اور ایڈوکیٹ طارق محمود ان کے وکیل ہیں۔
اس طرح کے مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے گاؤں پچنند میں بسنے والے احمدی کمیونٹی کے 80 افراد کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس گاؤں میں باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہونے والی مذہبی کانفرنسوں میں احمدی کمیونٹی کے خلاف تقاریر کی جاتی ہیں۔
ان واقعات سے بھی اس گاؤں پر مقامی پریس کی توجہ مبذول ہوئی ہے۔
تازہ ترین دھچکا 4 مئی کو لگا، جب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے حکم پر احمدیوں کی عبادت گاہ سے گنبد اور میناروں کو منہدم کردیا گیا۔
قانون کے مطابق احمدیوں کی عبادت گاہوں پر مینار یا گنبد تعمیر کرکے اس کو مسجد کی شکل نہیں دی جاسکتی۔
اس انہدام کا علاقے کے دیوبندی اور بریلوی مسالک کے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا، اور مذہبی رہنماؤں کے ان بیانات کو مقامی اخبارات میں کئی دن تک شایع کیا جاتا رہا، جنہوں نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا تھا۔
اس گاؤں میں احمدیوں کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔
مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمر فاروق نے مقامی اردو اخبار میں ایک انتہائی اشتعال انگیز مضمون ’پچ نند میں قادیانیوں کو شکست کا سامنا‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔
اس گاؤں میں احمدی کمیونٹی کے ایک بزرگ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنی عبادت گاہوں کو نہ تو مسجد پکار سکتے ہیں، نہ ہی ہماری عبادتگاہوں پر مسجد کی طرز پر مینار یا گنبد تعمیر کرسکتے ہیں۔ ہم تو لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دے سکتے۔ ہمیں ایک دوسرے کو ’السلام علیکم‘ کہنے کی بھی اجازت نہیں، اس لیے کہ یہ قانونی طور پر ممنوع ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’بلاشبہ اس طرح کا قانون پاکستان میں موجود ہے۔‘‘
میناروں کے انہدام کے بعد احمدیوں کی عبادتگاہ کی ایک تصویر۔ —. فوٹو ڈان
میناروں کے انہدام کے بعد احمدیوں کی عبادتگاہ کی ایک تصویر۔ —. فوٹو ڈان
اس گاؤں کے پہلے احمدی برطانوی فوج کے ایک سپاہی ملک محمد خان تھے، جو پہلی عالمی جنگ کے دوران احمدی ہوگئے تھے۔
آج اس گاؤں کے زیادہ تر احمدیوں کا تعلق نچلے طبقے سے ہے جو انتہاءپسند مذہبی پیشواؤں کے ہاتھوں حملوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔
یہاں کے ایک احمدی نے بتایا ’’یہاں کی صورتحال 2008ء تک کافی پُرامن تھی، اس کے بعد تلہ گنگ میں مقیم کچھ سخت گیر مذہبی پیشواؤں نے ہمارے خلاف ایک مہم شروع کی۔‘‘
تلہ گنگ شہر کے کچھ مذہبی پیشواؤں نے 2008ء میں احمدیوں کے خلاف مہم شروع کی کہ وہ اپنی عبادتگاہوں کو پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس مہم کے نتیجے میں 2011ء کے دوران ایک مقدمہ درج کیا گیا۔
2008ء کے بعد سے اس گاؤں میں احمدی مخالف لٹریچر کی تقسیم معمول بن گئی ہے۔ تین سال قبل ’تحفظ ختم نبوت‘ کے عنوان سے پہلی کانفرنس تحریک تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام اس گاؤں میں منعقد ہوئی۔ جس میں مذہبی رہنماؤں نے احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں۔
ایک اور احمدی نے بتایا ’’گاؤںمیں تقسیم کیے جانے والے پمفلٹس ہمارے خلاف توہین آمیزنعروں سے بھرے ہوتے ہیں اور مجلس احرار اسلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے کارکنان گاؤں کے گھروں اور دکانوں کے دروازوں پر احمدی مخالف اسٹیکرز لگاتے ہیں۔‘‘
ڈان کو دستیاب ان پمفلٹس کی کاپیوں سے اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
مجلس احرار اسلام پاکستان کی جانب سے شایع ہونے والے ایک پمفلٹ میں اس گاؤں کے 35 احمدی مردوں کی ایک فہرست دی گئی ہے۔ ان 35 افراد کے ناموں کے ساتھ ان کے گھرکے پتے اور یہاں تک کہ ان کی ذاتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس پمفلٹ میں اہم فرقوں کے مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان احمدیوں کا سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کریں۔
احمدی کمیونٹی کے ایک اور رکن نے بتایا کہ ’’اس قسم کا نفرت انگیز مواد ہمیں درپیش سیکیورٹی کے خطرات میں اضافہ کردیتا ہے۔ ہمارے بچوں کو گاؤں کے اسکولوں میں تنگ کیا جاتا ہے اور ہم ان کی زندگیوں کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔‘‘
اس گاؤں کے احمدیوں نے نیشنل ایکشن پلان کی سنجیدگی پر بھی سوال اُٹھایا ہے۔ ایک احمدی نے کہا ’’اس وقت نیشنل ایکشن پلان کہاں ہوتا ہے جب یہ نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں اور ہمارے خلاف اخبارات میں کالمز شایع کیے جاتے ہیں۔‘‘
ایک پولیس اہلکار نے اس صورتحال کی نزاکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’’ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘‘
ڈان سے بات کرتے ہوئے جماعت احمدیہ پاکستان کے پریس سیکشن کے انچارج عامر محمود نے پاکستان میں احمدیوں کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے تحریک پاکستان میں فعال طور پر حصہ لیا تھا، لیکن آج ہماری کمیونٹی کے لیے ہر نئے روز جگہ تنگ ہوتی جارہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ’’لاہور میں 86 احمدیوں کا قتل کیا گیا، اور ہماری خواتین کو گوجرانوالہ میں زندہ جلادیا گیا، لیکن ہم نے پُرامن احتجاج تک نہیں کیا۔ ہم خاموشی کے ساتھ یہ سب کچھ برداشت کررہے ہیں۔‘‘
احمدیوں کی حالتِ زار کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے عامر محمود کہتے ہیں کہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا ’’یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بلالحاظ مذہب وہ اپنے شہریوں کا تحفظ کرے۔‘‘
جب ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ڈاکٹر معین مسعود سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا ’’کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس طرح کے نفرت آمیز مواد شایع کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔‘‘

No comments:

Post a Comment